چوہدری نثار اور نواز شریف کی ملاقات،ناراضی ختم کرانے کی کوششیں ، اندر کی خبرمنظر عام پر

0 31

اسلام آباد(اردونیوز)مسلم لیگ ن کے سابق رہنما اور سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے مرکزی قیادت کیساتھ اختلافات کے بعد اپنی راہیں جدا کرلیں اور اب سینئر کالم نویس نسیم شاہد نے انکشاف کیا ہے کہ چودھری نثار علی خان نے کھل کر نوازشریف کی سیاست کو بے وقت کی راگنی قرار دیتے ہوئے اسے مسلم
لیگ (ن) کے لئے نقصان دہ قرار دیا تھا۔
ساتھ ہی مریم نواز کو نوازشریف کا سیاسی جانشین ماننے سے انکار کرتے ہوئے ان کے سیاسی کردار کی مخالفت کی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب شہباز شریف بہت کوشش کرتے رہے کہ چودھری نثار علی خان اور نوازشریف میں دوری ختم ہو جائے لیکن نوازشریف نے اس بات کو یکسر مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:یہ بھی پڑھیں:سعودی فرمانروا اور ولی عہد کی جانب سے پاکستانی قیادت کے نام خصوصی پیغام

news in urdu
news in urdu

اس کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ چودھری نثار علی خان نے مریم نواز کی قیادت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا، جو نوازشریف کو کسی صورت قبول نہیں تھا۔روزنامہ پاکستان مٰیں نسیم شاہد نے مزید لکھا کہ ” حکومت کے اکثر وزراء کی تان اس نکتے پر ٹوٹتی ہے کہ شریف خاندان خود اختلافات کا شکار ہے، اس لئے حکومت کے خلاف کسی تحریک کا کوئی امکان موجود نہیں۔
شیخ رشید احمد ہوں یا فواد چودھری، فیاض چوہان ہوں یا شبلی فراز، وہ یہی کہتے پائے جاتے ہیں کہ مریم نواز اور شہباز شریف میں پارٹی پر تسلط قائم کرنے کی جنگ جاری ہے، اس لئے مسلم لیگ (ن) خود انتشار کا شکار ہے، تحریک انصاف کی حکومت کا کیا بگاڑے گی۔لیکن شریف خاندان اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ایسے ہر تاثر کو منفی پروپیگنڈہ قرار دے کر مسترد کیا گیا ہے اب بھی کہ جب مریم نواز نیب میں پیشی کے لئے جاتی امرا سے باہر آئیں تو انہوں نے یہی کہا کہ شہباز شریف اور نوازشریف کا بیانیہ ایک ہی ہے۔
اس میں جو لوگ اختلاف کی باتیں کرتے ہیں وہ در حقیقت مسلم لیگ (ن) سے خوفزدہ ہیں دوسری طرف شہباز شریف نے بھی پیشی کے موقع پر مریم نواز کی گاڑی پر پتھراؤ اور کارکنوں پر تشدد کی پر زور مذمت کی اور اسے حکومت کی فسطائیت قرار دیا، کہیں سے بھی ان کے بیان سے یہ نہیں لگا کہ انہوں نے مریم نواز کی ریلی کے ساتھ نیب آفس جانے کی مخالفت کی ہو۔ مریم نواز نے حمزہ شہباز کے بارے میں واضح طور پر کہا کہ وہ ان کے ساتھ مل کر پارٹی کو متحرک رکھیں گی۔
 
یہ بھی پڑھیں:چین پاکستان کو مسلم ممالک کی قیادت کرتے دیکھنے کا خواہشمند
in urdu news
in urdu news

کیا واقعی یہ صرف حکومتی وزراء کا پروپیگنڈہ ہے کہ شریف خاندان میں مسلم لیگ (ن) پر غلبے کے لئے اختلافات ہیں، یا ان میں کوئی حقیقت بھی ہے، یہ ایسا سوال ہے جو نہ صرف عام سیاسی حلقوں بلکہ خود مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی اپنے جواب کا منتظر چلا آ رہا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے اگر اپنی سٹریٹ پاور گنوائی ہے تو اس کی وجہ یہی ابہام ہے کہ پارٹی کی قیادت کون کر رہا ہے۔
بظاہر شہباز شریف مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں لیکن ان کی گرفت کتنی ہے اس بارے میں شکوک و شبہات موجود ہیں جس پارٹی کے نام ہی میں (ن) نوازشریف کی علامت ہو اس میں نوازشریف کے بغیر کسی کا سکہ کیسے جم سکتا ہے۔خود نوازشریف نے بھی اس بارے میں کبھی کوئی دو ٹوک بیان نہیں دیا کہ مسلم لیگ (ن) کس کی قیادت میں کام کرے گی۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو
بریکنگ نیوز