عجیب و غریب سمندری مخلوق

15

بچو!یقینا یہ تو آپ سبھی جانتے ہوں گے کہ سمندری مخلوق کی بے شمار اقسام سمندر کی تہہ میں جی رہی ہیں۔ان کی زندگی کے منفرد اور دلچسپ پہلو بہت سی نگاہو ں سے اب تک پوشیدہ ہیں۔

”ایڈورڈ فوربز ‘‘جو کہ سولہویں صدی کا برطانوی محقق تھااس کے مطابق سمندری مخلوقات میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ان میں سے کچھ مخلوقات ایسی ہیں جو سمندرکی تہہ میں رہتے ہو ئے انسانی دسترس سے باہر ہیں،جبکہ کئی ایسی بھی ہیں جو سطح آب یا کم گہرائی میں رہتے ہوئے انسانوں کا سامنا کرتی رہتی ہیں۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ سمندر میں ایک” برقی بام مچھلی‘‘ کا وجود بھی ہے جس میں اس قدر الیکٹرک پاور ہوتی ہے کہ اس کی مدد سے دس بلب روشن کیے جا سکتے ہیں۔جب کہ انسان دوست مچھلی ”ڈولفن‘‘ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نیند کے دوران اس کا دماغ صرف پچاس فیصد تک نیند کا اثر قبول کرتا ہے،اورحا لت ِ نیند میں بھی اس کی ایک آنکھ کھُلی رہتی ہے جو کہ آس پا س کے ماحول کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے۔ڈولفن کے بارے میں ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ زیرِ آب رہتے ہوئے بھی 24 کلو میٹر دور تک کی آواز کو سننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
” آکٹوپس‘‘ نامی آبی مخلوق کے خون کا رنگ نیلا ہوتا ہے،اور اس کے وجود میں ایک نہیں بلکہ تین دل ہوتے ہیں۔”سمندری سپنچ‘‘ بھی ایک ایسی مخلوق ہے جس کے وجود کو دیکھتے اور جانتے ہوئے انسان حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے،یعنی یہ وہ زندہ سمندری جانور ہے جس کے وجود میں دل،منہ،دماغ،جگر اور حتیٰ کے سر تک کا کوئی حصہ نہیں ملتا۔24 انچ لمبی سمندری مخلوق جسے ”سمندری گھوڑا‘‘کہا جاتا ہے کی مادہ نہیں بلکہ نر اپنے بچوں کو جنم دیتا ہے۔
”بلیو وہیل‘‘وہ سمندری مخلوق ہے جس کی جسامت بڑی بس سے 3گنا زیادہ ہوتی ہے اور اس کا وزن 50 ہاتھیوں کے برابر ہو سکتا ہے،اور بچو!یہ بات بھی یقینا آپ کے لیے نئی ہو گی کہ اس مچھلی کے دل کا سائز ایک کار کے برابر ہوتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home1/attamedi/newslive.pk/wp-includes/functions.php on line 4673