مشکوک افراد سے رابطے کا شاخسانہ:عمر اکمل:تمام طرز کی کرکٹ میں تین سالہ پابندی عائد

3

تنازعات کے عادی کرکٹرکی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ آگئی،پی ایس ایل سے قبل بدعنوانی کے حوالے سے دو رابطوں سے متعلقہ حکام کو آگاہ نہ کر سکے ،سماعت سے بھی انکار انضباطی پینل نے براہ راست فیصلہ سنا دیا، باصلاحیت پلیئر کیخلاف تین سالہ پابندی کی سزا پر خوشی نہیں لیکن یہ دوسروں کیلئے پیغام ہے کہ وہ غلطی کر کے بچ نہیں سکتے ،آصف محمود

کراچی(اسپورٹس رپورٹر)مشکوک افراد سے رابطے کو چھپانے کا شاخسانہ ہے کہ قومی بیٹسمین عمر اکمل پر تین سالہ پابندی عائد کردی گئی جو تنازعات کے عادی کرکٹر کے کیریئر میں آنے والی سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے ،وہ پی ایس ایل فائیو سے قبل بدعنوانی کے حوالے سے دو رابطوں سے متعلقہ حکام کو آگاہ نہ کر سکے اور سماعت سے بھی انکار کردیا جس کے باعث انضباطی پینل نے براہ راست فیصلہ سنا دیا،پی سی بی کے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی لیفٹیننٹ کرنل آصف محمود کا کہنا تھا کہ باصلاحیت پلیئر کیخلاف تین سالہ پابندی کی سزا پر خوشی نہیں لیکن یہ دوسروں کیلئے پیغام ہے کہ وہ غلطی کر کے بچ نہیں سکتے ۔تفصیلات کے مطابق تنازعات کے عادی قومی بیٹسمین عمر اکمل کا ڈانوا ڈول کیریئر سب سے بڑی رکاوٹ سے متاثر ہو گیا جن پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے تین سالہ پابندی عائد کردی ہے جس کے تحت وہ کسی بھی نوعیت کی نمائندہ کرکٹ میں شرکت سے محروم ہو گئے ہیںکیونکہ پاکستان سپر لیگ سیزن پانچ سے قبل وہ بدعنوان عناصر کی جانب سے دو مختلف پیشکشوں کی بابت متعلقہ حکام کو مطلع نہیں کر سکے تھے۔ یاد رہے کہ عمر اکمل کی جانب سے اینٹی کرپشن ٹربیونل میں باقاعدہ سماعت سے انکار کے بعد یہ معاملہ پی سی بی کے انضباطی پینل کو براہ راست بھیجا گیا تھا اور خود کو بے قصور ثابت کرنے یا الزامات کا مقابلہ کرنے کے بجائے عمر اکمل نے تسلیم کرلیا تھا کہ انضباطی پینل کے سربراہ جسٹس فضل میراں چوہان جس فیصلے پر پہنچے وہ اسے قبول کرلیں گے ۔پی سی بی کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ جیسے ہی جسٹس فضل میراں چوہان اپنا تفصیلی سنائیں گے اسے عوام کیلئے جاری کردیا جائے گا۔یاد رہے کہ پی سی بی نے 20مارچ کو عمر اکمل پر اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت دو مختلف معاملات میں فرد جرم عائد کی تھی جس کے مطابق آرٹیکل دو،چار،چار کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرنے والا کرکٹر اگر بورڈ کے سیکیورٹی اینڈ ویجیلنس ڈپارٹمنٹ کو کسی بدعنوانی کی اپروچ کے بارے میں مطلع نہ کرسکے یا غیر ضروری طور پر تاخیر کا مظاہرہ کرے تو اسے چھ ماہ سے لے کر تاحیات پابندی کا خطرہ درپیش ہو سکتا ہے ۔گزشتہ روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ہونے والی سماعت کے دوران عمر اکمل خود بھی موجود تھے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے لیگل اٹارنی تفضل حسین رضوی نے نمائندگی کی جس کے بعد پی سی بی نے اپنے بیان میں اس بات کی وضاحت کردی کہ عمر اکمل نے فیصلہ سامنے آنے سے قبل پورے کیس کو تفصیلی طور پر سنااور جسٹس فضل میراں چوہان کی جانب سے سزا پر اتفاق کیا ۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی لیفٹیننٹ کرنل آصف محمود کا کہنا تھا کہ پی سی بی کو اس بات کی قطعی کوئی خوشی نہیں ہے کہ ملک کا ایک باصلاحیت کھلاڑی اپنی غلطی کے نتیجے میں غیر فعال ہو گیا جس پر بدعنوانی کے الزامات عائد ہوئے ہیں لیکن یہ ان تمام کھلاڑیوں کیلئے ایک مرتبہ پھر یاددہانی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کرنے کے باوجود وہ بچ کر نکل سکتے ہیں۔اینٹی کرپشن ٹربیونل کے روبرو پیشی کی درخواست نہ کرنے پر پی سی بی نے عمر اکمل کا معاملہ 9 اپریل کو چیئرمین انضباطی پینل کو بھجوا دیا تھا جہاں اس معاملے کو آخر کار حتمی نتیجے تک پہنچا دیا گیا۔ آصف محمود کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن یونٹ باقاعدگی سے ہر سطح پر ایجوکیشن سیمینارز اور ریفریشر کورسز کا اہتمام کرتا ہے تاکہ تمام پیشہ ور کرکٹرز کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جاتا رہے تاہم پھر بھی اگر کچھ کرکٹرزقانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں گے تو پھر اس کا نتیجہ یہی نکلے گا جس کا سامنا عمر اکمل کو کرنا پڑا ہے ۔ڈائریکٹراینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی کا مزید کہنا تھا کہ وہ تمام پروفیشنل کرکٹرز سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بدعنوانی کی لعنت سے دور رہیں اور کسی بھی جانب سے رابطے کی صورت میں متعلقہ حکام کو فوری طور پر آگاہ کریں کیونکہ یہ صرف ان کے ہی نہیں بلکہ ٹیم اور ملک کے بہترین مفاد میں بھی ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ عمر اکمل کو اس سے قبل کبھی اینٹی کرپشن معاملات پر سزا کا سامنا نہیں کرنا پڑا البتہ یہ پہلا واقعہ نہیں کہ انہیں بدعنوان عناصر کی جانب سے بدعنوانی کی پیشکش ہوئی ہو کیونکہ دو ہزار اٹھارہ میں انہوں نے ایک ٹی انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ انہیں دو ہزار پندرہ ورلڈ کپ کے دوران بھارت کیخلاف میچ چھوڑنے پر رقم کی پیشکش ہوئی تھی لیکن اس بات کا کوئی علم نہیں ہوسکا کہ انہوں نے متعلقہ حکام کو اس بارے میں آگاہ کیا تھا جبکہ پی سی بی یا آئی سی سی کی جانب سے ان کیخلاف ایکشن بھی نہیں لیا گیا تھا تاہم 29 سالہ بیٹسمین پر حالیہ پابندی ان کیلئے کیریئر کے اس موڑ پر خاصی مشکلات کا باعث ہو سکتی ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.