مولانا طارق جمیل اور(MTJ)

0 6

مولانا طارق جمیل اور(MTJ)

ہماری معاشرتی عصبیت اس حد تک غلیظ ہوچکی ہے کہ مولوی بِھیک مانگے تو ٹھیک، مولوی چندہ مانگے تو ٹھیک، مولوی گندم مانگے تو ٹھیک، مولوی ختم کے پیسے لے تو جائز، مولوی مدرسے کےلیے عشر زکواۃ سے حصہ لے تو ٹھیک۔۔۔۔۔ سب خُوش!!!!!!!!

لیکن

کوئی مولوی/ مولانا معاشرے پہ بوجھ بننے کے بجائے، اپنا کاروبار کرے تو وہ غلط، مولوی انڈسٹری لگائے تو وہ دنیادار کہلائے۔۔۔ مولوی کسی پروڈکٹ کو بطور بزنس برانڈ رجسٹرڈ کرا کے قانونی کاروبار کو فروغ دے تو لوگوں کو مفت کا اعتراض ۔۔۔۔۔۔

تاریخ کے اوراق پھرولیے!

اماں خدیجہ الکبریٰ تاجرہ ہیں، حضور پاک آپؐ بنفس اماں خدیجہ الکبری کے تجارتی سامان کو فروخت کرنے کی لیے بطور نمائندہ ہیں، حضوؐر پاک امی خدیجہ الکبریٰ کا تجارتی سامان فروخت کرنے کےلیے دمشق (شام)  و خطہ عرب کی منڈیوں تک جاتے ہیں۔۔

اسلام میں عورت کا بزنس کرنا تاریخ سے ثابت ہے، آج بھی عرب معاشرے میں خواتین اپنے سٹال شاپس پہ خود کھڑی ہو کر کام کاروبار کرتی ہیں. جدہ مکہ مدینہ کے فٹ پاتھوں پہ آپ کو بیشمار ایسی خواتین دیکھنے کو ملیں گی۔ پاکستان میں خواتین اگر اپنی شاپ بنا کر حق حلال کی روزی روٹی کرنا چاہیں تو  گُھٹن کا شکار پاکستانی معاشرہ اُسے ‘کَسبی’ تک کہنے سے باز نہیں آتا۔

اسی طرح آپؐ کے وقت اور بعد میں اہلِ بیت و اصحابِ رسولؐ فقط مسجد و منبر تک محدود نہ تھے بلکہ جدید ترین اصولوں پہ وسیع تجارت کرتے تھے۔

مگر افسوس!!!

بقول سعادت حسن منٹو ” ہمارا معاشرہ عورت کو کوٹھا چلانے کی اجازت تو دیتا ہے لیکن تانگہ چلانے کی نہیں”  یہ ہی منافق معاشرہ مسجد و منبر سے جُڑے کسی داعی (مولوی/ مولانا)  کو چندے صدقے فطر زکوٰۃ تک تو پسند کرتا ہے مگر جدید طرز کے بزنس پہ قبول نہیں کرتا ۔۔

ٹیکسٹائیل مصنوعات سے متعلق مولانا طارق جمیل MTJ برانڈ مارکیٹ میں لانچ ہوا تو سوشل میڈیا پہ بُغضیوں نے دِل کھول کر بھڑاس نکالی ۔۔۔

کپڑوں کا برانڈ MTJ تو کل کی بات ہے، مولانا طارق جمیل صاحب بذاتِ خود تب بھی برانڈ تھے، جب ہوسٹن بوسٹن نیویارک لندن، پیرس برسلز فیوجی برلن کی سڑکوں پر مولانا صاحب کی اک جھلک دیکھنے کےلیے ٹریفک جام ہو جایا کرتی تھی۔

دلچسپ امر یہ ہے !!!! MTJ برانڈ  مکمل مولانا صاحب کا نہیں ہے بلکہ پاکستان کے چند بڑے تاجروں نے مولانا طارق جمیل صاحب کے نام کو بطور برانڈ متعارف کرایا ہے۔ اللہ کی قدرت دیکھیے اِدھر مولانا صاحب کا نام لگا، اُدھر راتوں رات MTJ نے پوری دنیا میں اپنا نام بنا لیا۔۔

خوشی کی بات یہ کہ مولانا صاحب روایتی طرز کی مُلائیت کو رد کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں،

جبکہ

مزید خوشی کی بات یہ کہ مولانا صاحب کے ناقدین و حاسدین سوائے جلنے کُڑھنے کے کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔

"مولانا صاحب آپ ساری دنیا میں پاکستان خصوصاً تلمبہ کا فخر ہیں،  عالمی سطح پہ” ‘تلمبہ’ کا سب سے بڑا برانڈ آپ ہیں، جس پہ تلمبہ کے ہر شہری کو فخر ہے”۔۔۔

دعا ہے کہ "اللہ پاک آپ کے بزنس میں دن دُگنی رات چُوگنی ترقی عطا فرمائے "۔۔آمین

باقلم اسلم نوید سَچّل

ایک تبصرہ چھوڑ دو
بریکنگ نیوز