شدید غیر متفق

0 7

شدید غیر متفق

پاکستان کے عوام پہلے ہی کام کر کے راضی نہیں ہیں، اِس کے اوپر مصداق "چپڑی اور دو دو”۔
جناب وزیراعظم چمتکارستان!
بیٹھے بٹھائے تو سگی ماں بھی روٹی نہیں دیتی ۔ چائنہ کی طرح سب کو کام پہ لگائیے، کم از کم ہر شخص کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنے حصے کی روٹی میں خود کفیل ہو۔ بعد میں جو دھرتی کا بوجھ نشئی، ہیروئنچی، بھنگی وغیرہ بچیں انہیں اٹھا کر سمندر میں پِھنکوا دیں
وزیراعظم ساب!!!
پاکستان میں ہنر مند لوگوں کا شدید قحط ہے، اسلام آباد ایسے عظیم شہر میں اچھا پلمبر الیکٹریشن، چناور ڈھونڈنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ اکثریت جگاڑیوں کی ہے۔ یہ ہی حال چھوٹے شہروں کا ہے
جناب لوگوں کو ہنرمند کیجیے، روزگار دیجیے۔ پھر حکومتی مَن سلوہ بانٹنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ایک حد تک یہ امر قابل قبول ہے، لیکن اس سے بہت بہتر یہ ہوتا کہ مہنگائی کے بےقابو جِن کو بوتل میں بند کیا جاتا، اگر اسی شرح سے مہنگائی بڑھتی رہی تو پھر بیس کروڑ لوگوں کےلیے لنگر خانے کھولنے کی منصوبہ بندی کر لیں۔
اللہ نہ کرے مجھ پہ کبھی تنگی آئی تو میں فاقہ کرنا مناسب سمجھوں گا، لیکن بھیک یا صدقات کا پکا لنگر نہیں کھاوں گا۔
کتنی بھی غربت ہو لوگوں کو خُودی کی طرف مائل کرنا بھی حکومت کا فریضہ ہے۔ لنگر خانے کبھی بھی، بھوک اور غربت ختم نہیں کر سکتے، ہاں البتہ!! اس عمل سے سہل پسند حرامخوروں کی فوجِ ظفر موج ضرور تیار ہو جائے گی۔
رہے نام اللہ کا
تبدیلی زندہ باد
باقلم سَچّل

ایک تبصرہ چھوڑ دو
بریکنگ نیوز