وعدوں سے تکمیل کا جُگاڑ!

0 3

وعدوں سے تکمیل کا جُگاڑ

 

ہمارے ہاں اربَن سڑکوں کا معیار پوری دنیا میں ناقص ترین ہے، اسفالٹ تہہ کی معیاری موٹائی کم از کم بارہ سے پچیس سنٹی میٹر تک ہوتی ہے، تلمبہ کی مرکزی سڑک پہ اسفالٹ کی موٹائی بمشکل آٹھ سنٹی ہوگی، یعنی یہ سڑک بھی پاکستان کے تمام ترقیاتی کاموں کی طرح کرپٹ مگرمچھوں کا نوالہ بننے کے بعد بنی ہے۔ جب یہ سڑک بنی تھی، مَیں نے تب بھی شور مچایا تھا۔ مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے؟؟
یورپ امریکہ بشمول خلیجی ممالک میں جب کوئی عوامی سڑک بنتی ہے تو مختلف شعبوں کے مُہندّس منصوبے بناتے ہیں، نکاسی آب کے مہندسِین، پانی کے بہاو، صفائی ستھرائی کے حوالے سے اپنی ڈرائنگز تیار کرتے ہیں. بجلی والے فلڈ لائٹس، برقی اشاروں کے نظام، مارکیٹوں شاپنگ سنٹروں کو بجلی کی بہترین اور محفوط ترسیل کا منصوبہ بناتے ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت یا مصیبت کے وقت بجلی کی فراہمی جاری رہے۔ محمکمہ شاہرات سب کاموں کو سڑک پہ اسفالٹ بچھانے سے پہلے مکمل کراتا ہے تاکہ ایک جوڑ میں بِچھی اسفالٹ کو دوبارہ کاٹنا نہ پڑے، اگر ایک بار اسفالٹ کٹ جائے تو سڑک کی مضبوطی اور معیار پہلے جیسا کبھی نہیں رہتا۔
پہلی کوتاہی پچھلی گورنمنٹ کی ہے، جب سڑک بن رہی تھی تو اُن کو چاہیے تھا جہاں جہاں فلڈ لائٹس لگنی ہیں وہاں زمین دوز گیلوِینائزڈ ٹرنکس بچھائی جاتیں، مگر افسوس اندھی پِیس رہی ہے کُتے چاٹ رہے ہیں، اگر یہ پیَسہ حکمرانوں کی اپنی جیب سے لگتا تو انہیں بڑا احساس ہوتا۔
موجودہ گورنمنٹ کی سنجیدگی کا اندازہ یہاں سے لگا لیں فلڈ لائٹس تنصیب کے کام کا ٹھیکہ جُگاڑیوں کو دے رکھا ہے۔ جبکہ کاغذوں یہ ہی کام انٹرنیشنل معیارات کو مدِنظر رکھ کے بنا ہوگا اور اس کا تخمینہ بھی اسی حساب سے بہت زیادہ لگا ہوگا۔ جُگاڑ کام کا اندازہ اس بات سے لگا لیں، جو مزدور گرینڈر سے سڑک کاٹ رہا ہے، کسی بھی زاویے سے پروفیشنل بندہ نہیں لگ رہا ہے بلکہ کرپٹ ٹھیکیدار نے پانچ سو رُوپَلّی یومیہ دینے کے عِوَض مرکزِ تصویر شخص کی زندگی داؤ پہ لگا رکھی ہے جبکہ ٹھیکیدار کرپشن کے فَن کے سبب لاکھوں کا حرام ہڑپ کرے گا۔

نمبر 1 :- مزدور سیف گارڈ کَوَر کے بغیر گرینڈر چلا رہا ہے جو بہت خطرناک ہے۔ اس گرینڈر کے rpm سات ہزار سے زیادہ ہوتے ہیں ، RPM سے مراد راؤنڈ پَر مِنٹ ہے جو اسے دنیا کا خطرناک ٹول بنا دیتے ہیں، سب سے زیادہ حادثات بھی گرینڈر کی وجہ سے ہوتے ہیں،
نمبر2:- گرینڈر چلانے والے نے ہاتھوں کی حفاظت کےلیے دستانے نہیں پہن رکھے۔
نمبر3:- آنکھوں پہ حفاظتی عینک نہیں ہے، تیزی سے اُڑ کر نکلنے والا کوئی بھی ذرہ ایک سیکنڈ میں آنکھ ضائع کر سکتا، ہم آنکھ اپنی غلطی سے ضائع کروا لیتے ہیں بعد میں قصور ڈاکٹر کا بن جاتا ہے
نمبر4:- اس کے سَر پہ حفاظتی ہیلمٹ نہیں ہے،
نمبر5:- پیَروں میں سیفٹی شوز نہیں ہیں،
نمبر 6:- گَلے میں رومال لٹک رہا جو ذرا سی بےدھیانی یا غلطی سے گرینڈر میں اُلجھ کر اس بھائی کی یا دیگر کسی راہگیر کی موت کا سبب بن سکتا ہے ۔
نمبر7:- پُر ہجوم سڑک کے درمیان کام جاری ہے مگر کسی جگہ بھی کوئی وارننگ ٹیپ نہیں لگی اور نہ ہی ورک پرمٹ کے حساب سے ورکنگ ایریا کو باڑ لگا کر بند کیا گیا ہے۔
نمبر8:- سڑک کی اسفالٹ کبھی بھی گرینڈر سے نہیں کاٹی جاتی بلکہ اس کےلیے 30 سنٹی میٹر گہرائی تک جانے والا کٹر استعمال ہوتا ہے تاکہ اسفالٹ کے نیچے کمپیکٹ کیے ہوئے روڑے پتھر آسانی سے کٹ جائیں بعد میں اردگرد کی سڑک گَینتی کُدالوں کی ضرب سے خراب نہ ہو۔
تلمبہ سمیت پاکستان کے تمام ترقیاتی کام اسی طرح بغیر اصولوں اور پلاننگز کے ہوتے ہیں، جو مسائل حل کرنے کے بجائے اُلٹا دردِ سر بن جاتے ہیں. جہاں ترقیاتی کام عوام کےلیے عذاب بنتے ہیں وہیں بڑے بڑے معزز ٹھیکیداروں اور لیڈران (کُل تخمینے سے ملنے والا خفیہ حصہ) کو کِک بیَکس کی مَد میں فائدہ بھی پہنچتا رہتا ہے۔ نعرے مارنے والے نعرے مارتے رہتے ہیں، انہیں اس بات سے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ ان کی جھوٹی خوشامد سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو فرعون بنا دیتی ہے۔ جس کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔
باقلم اسلم نوید سَچّل

ایک تبصرہ چھوڑ دو
بریکنگ نیوز