کرونا کی تیسری لہر اور ھم

0 1

کرونا کی تیسری لہر اور ھم

 

آخر سچ ہے کیا؟ اسلم نوید کے ساتھ
زیرِ تحریر تصویر جدہ ائیر پورٹ (سعودیہ عرب) کی ہے، تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے بس مسافروں کو ٹرمینل سے جہاز تک لے کر جا رہی ہے۔ ماسک کے سِوا کوئی S O P نہیں ہے۔
سعودیہ کی اکانومی پاکستان سے سینکڑوں گُنا مضبوط ہے۔ اگر سعودیہ دس سال بھی بند رہے تو سعودی حکومت اپنے عوام کو بِٹھا کر کِھلا سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود سعودیہ میں تمام مارکیٹس کھول دی گئی ہیں تاکہ طلب و رسد کی زنجیر متاثر نہ ہو، سعودی حکام جانتے ہیں طلب رسد کی زبجیر کا تعطل ذخیرہ اندوزی کا سبب بنتا ہے.
دوُجی جانب ہمارا بدقسمت پاکستان ہے جہاں کرونا کیسز بلحاظ آبادی سعودیہ سے کم ہیں، ہماری معیشت پہلے ہی تباہ حال ہے۔ روزگار ناپَید ہے، کاروباری اشخاص مخدوش مستقبل سے پریشان ہیں۔ پیسے کی چَلَت رکی ہوئی ہے، سب کچھ جانتے بھالتے بھی پاکستان میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے، سمارٹ گورنمنٹ کی سمارٹ پالیسی میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ دکانیں مارکیٹیں بند کرنے سے مزید بیروزگاری تو بڑھ سکتی ہے لیکن کرونا کیسز کم نہیں ہونگے۔
جہاں تک میں نے دیکھا اور محسوس کیا لوگوں پہ کرونا کے اٹیک کی بجائے، بُھوک، غربت، بیروزگاری کے وائرس کا خوف زیادہ مسلط ہے۔ گورنمنٹ جلد از جلد اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے بجائے اس کے کہ بیروزگاری کا وائرس سب کچھ اُڑا کر رکھ دے ۔
باقلم اسلم نوید سَچّل

ایک تبصرہ چھوڑ دو
بریکنگ نیوز